Ahsen's Software Portables

Bootable Windows USBs with MS Office & IDM

ٹی وی کا خطرہ، ایک جدید دور کا فتنہ

the danger of tv

آج کل ٹی وی ہر گھر میں موجود ہے اور ہر کوئی اس کو تفریح کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ خاص طور پر سیٹلائٹ چینلز اور کیبلز توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔گھر کے بڑے اپنے کاموں سے فراغت حاصل کر کے ٹی وی کا رخ کرتے ہیں اپنے پسندیدہ چینل اور پروگرام دیکھنے کے بعد پھر سے اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔  اس طرح بچوں کی بھی اگر مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو وہ اپنا زیادہ تر وقت ٹی وی کی سکرین کے سامنے بیٹھ کے برباد کر دیں۔  اس کے بعد بچے سب سے زیادہ توجہ اپنے والدین کے موبائل میں گیمز وغیرہ پر دیتے ہیں۔ 

ٹی وی پروگرامز میں پروگرام کی بجائے بچوں کا اصل دیہان ان میں چلنے والے اشتہارات پر پڑتا ہے۔  بچوں کے خیال میں اچھی ماں وہ ہے جو کہ اپنے بچوں کی ہر ضرورت کو اسی وقت پورا کردے ، اچھا باب وہ ہے جو ان کی کسی بھی فرمائش سے انکار کرنے کی جرت نہ کرے ۔ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں لیکن ہم ان مستقبل کے بچوں کی تعمیر و تشکیل پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تو کل کو وہ بہتر مستقبل کی مثال کیسے بن سکتے ہیں ؟

ہم سے بہت پہلے مغرب والے ٹی وی کے منفی اثرات کا شکار ہو چکے ہیں۔  سویڈن اور ناروے میں دس سے بارہ سال سے کم عمر بچوں کی اشتہارات میں کام کرنے پر پابندی ہے۔  امریکہ میں بھی بچوں کو کم سے کم وقت کے لیے ٹی وی دیکھنے کے لئے ترغیب کیا جا رہا ہے ۔

ایک سروے کے نتیجہ یہ آیا ہے کہ امریکہ میں ایک شخص اپنی زندگی کے آٹھ دس سال ٹی وی دیکھنے میں ضائع کر دیتا ہے ۔ اس سے زیادہ برا حال آج کل ہمارے پاکستانیوں کا ہو رہا ہے۔  آپ اپنی زندگی کے بارہ سے تیرہ سال صرف ڈرامے دیکھنے میں ہی گزار دیتے ہیں اور پھر قیامت کے دن اللہ وقت کے بارے میں سوال کرے گاکہ اپنا وقت کہاں گزارا زندگی میں نے تجھےعطا کی تو نے اس کا کیا کیا ؟

ٹی وی دیکھنا اچھا ہے یا برا اس کا اندازہ اس سروے سے لگایا جا چکا ہے کے مشہور کارٹونز میں ایک گھنٹے کی سیریل کے اندر بیس سے پچیس سین ایسے ہوتے ہیں جن میں تشدد اور مار دھاڑ کو دکھایا جاتا ہے اور یہ وہی کارٹونز ہوتے ہیں جن کو ہم اپنے بچوں کے ساتھ بہت زیادہ شوق سے دیکھتے ہیں۔  ایک اہم بات ان کارٹونز میں سب سے زیادہ کھائی جاتی ہے وہ ہوتی ہے بدلہ لینا ، جیسے ٹوم اینڈ جیری کارٹون میں بچوں کے دماغ کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کے بدلہ کیسے لیا جاتا ہے۔  ہمارے آج کے نوجوان انہی کے پیغامات پر عمل کر رہے ہیں۔  آپ سوشل میڈیا پر دیکھیں آپ کو ہر جگہ لوگ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے نظر آئیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کا مذاق اڑاتے ہوئے بھی نظر آئیں گے۔  اس مذاق کی کوئی حد نہیں ہوتی مذاق مذاق میں ہم ایسی حرکتیں اور باتیں بھول جاتے ہیں کہ جس میں ہم مگر بعد میں تنہائی میں سوچیں تو ہم شرم سے پانی پانی ہو جائے اور یہی ان شیطان پرست لوگوں کا مقصد ہے۔  جس میں وہ کافی حد تک ٹی وی کی وجہ سے کامیاب ہو رہے ہیں ۔

اسی طرح مسلمانوں کی اسلامی تاریخ میں فتوحات،  تعلیمات کو مسخ کر کے مسلمانوں کی تعلیمات کو بالکل تروڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو بدامنی پھیلانے والا دکھا کر کر ذہنی اور نفسیاتی شکست دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور مسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے کہ ان کافروں کے ساتھ لڑنا یا تو مشکل ہے یا ناممکن    ۔

لوگ فلموں میں جذباتی یا مار دھاڑ والا منظر دیکھ کر اس کے اثر کو قبول کرتے ہیں ۔ انہیں ڈرامے کی اثرات کی وجہ سے آج کل جنسی تعلقات بہت زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اسے آج کل فیشن کے طور پر اپنایا جا رہا ہے،  یعنی مغربی معاشرے کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی ان تعلقات پر فخر کیا جا رہا ہے اور دوست وغیرہ میں بہت زیادہ بے باکی اور فخر سے ان تعلقات کو بیان کیا جاتا ہے ۔

جس خوبصورتی سے اس فتنے کو ہمارے ذہنوں میں داخل کیا جا رہا ہے اس سے ہم مسلمان ابھی تک بے خبر ہیں یا پھر بے خبر ہی رہنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارے لئے ان ڈراموں کے آگے آنے والی قسطوں کی سٹوری ہی زیادہ اہم ہے۔  ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ کس طرح ان ڈراموں میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات  کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں  ۔
Order via WhatsApp

Customer Reviews

Have you successfully installed Windows using this USB? Leave a review below to help others!

تبصرے