نوسٹر ڈومس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ جب دجال مغربی ممالک پر قبضہ کر رہا ہوگا تو ایٹمی ہتھیار ایسی تباہی پھیلائی گے جیسے کسی جگہ پر بجلی گرنے سے ہوتی ہے۔ مزید ستم یہ کہ اس سے زہریلے اجزا کی بارش ہونا شروع ہو جائے گی۔ ایسے ہتھیار جو ہماری سوچ سے بھی باہر ہیں وہ ایسی تباہی پھیلائی گے جو کبھی پہلے نہ دیکھی ہوگی نہ سنی ہوگی، زمین لاشوں سے بھری ہو گئیں اور وہ درد سے روئے گی۔ دجال کتنا طاقتور ہوگا کہ تمام ملکوں کے سربراہ اس سے خوف زدہ ہو جائیں گے اور اس کے خلاف کچھ بھی کرنے کی کسی کی ہمت نہ ہوگی ۔ اس طرح تمام تہذیبوں کا صفحہ ہستی سے خاتمہ ہو جائے گا ۔
جب بھی دجال کسی جگہ پر قبضہ کرنا چاہے گا تو وہاں پر ہلاکتوں میں اضافہ ہوجائے گا تاکہ وہاں قبضہ کرنے میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اس تباہی کے سامنے پچھلی تمام تباہیاں بچوں کا کھیل نظر آئیں گے۔ ہٹلر کی طرح دجال بھی خون کی ندیاں بہا چلا جائے گا ۔
مزید لکھتا ہے کہ مشرق وسطی میں ایک ایٹمی حملے کا خطرہ ابھرے گا اور حملہ کرنے والا حملہ نہ کرنے کا کہہ کر وعدہ توڑ دے گا اور حملہ کر دے گا جس سے اس علاقے میں موجود دوسری طاقتوں کے بحری جہازوں پر بھی اثر انداز ہوگا۔ ایٹم کے ریڈیائی ذروں سے انسانوں جانوروں اور موسموں پر جو اثر ہوگا۔ اس سے دریا کا پانی سرخ رنگ کا ہو جائے گا۔ بالکل یہی اثر آتش فشاں کے پھٹنے سے بھی ہوگا جس کی وجہ سے لاشوں کے جسم پانی کے اوپر تیرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان سب اثرات کی وجہ سے دریا اپنا راستہ تبدیل کرنا شروع کر دیں گے جس کے پیش نظر سرحدیں بھی تبدیل ہونا شروع ہوجائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت امریکہ میں ڈیموکریٹک صدر ہوگا ۔
پھر لکھتا ہے کہ بحر متوسط کی مہم اور جبل طارق کی جنگ کے دوران دجال منافقوں پر قبضہ کرے گا اور اس جگہ کو اٹلی اور یورپ پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرے گا اور وہاں کے کے شہزادے کا بیٹا قید کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جبل طارق وہ جگہ ہے جہاں پر کہ طارق بن زیاد نے اپنی کشتیاں جلا ڈالی تھی اور صرف چند سو افراد کی مدد سے پورا سپین فتح کر لیا تھا۔ اس لیے اس ساحل سمندر کو جبل طارق کہاں جاتا ہے ۔
نیویارک اور لندن میں جراثیمی حملے کے متعلق لکھتا ہے کہ ان دونوں شہروں پر خطرناک جراثیمی ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جائے گا اور وہ حملہ انتہائی مہلک قسم کا ہوگا یہ حملہ جراثیم یا بیماری پھیلانے والے ہتھیاروں سے کیا جائے گا اور یہ جراثیم دونوں شہروں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوں گے جس سے ایسا محسوس ہو گا کہ دو مختلف بیماریاں دو مختلف شہروں میں پھیل گئی ہیں حلانکہ یہ سب کچھ ایک ہی تنظیم کی وجہ سے کیا گیا ہوگا ۔ان جراثیموں کی وجہ سے ان شہروں کی بنیادی تک ہل جائیں گے ۔
پھر دجال کے یورپ پر قبضے کے حوالے سے لکھتا ہے کہ دجال نے دنیا پر حکومت کرنے کا ارادہ اپنے آپ سے پچھلے جنم میں کیا تھا۔ اس کی شیطانی طاقت کو صرف نیکی سے ہی روکا جا سکتا ہے۔ وہ اپنا نیچے کے درجے سے شروع کرے گا اور ترقی کرتا اوپر کے درجے پر جانے یا پہنچنے کی کوشش کرے گا اور دجال اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کا بادشاہ بن بیٹھے گا۔ اس کی طاقت اور حیثیت اس کے نام کے مطلب سے ظاہر ہوں گے ۔
دجال مشرق وسطیٰ میں قیام کرے گا اور اس ٹائم مشرق وسط اپنی زندگی کے نہایت نازک مقام پر ہے۔ اس ٹائم یہاں پر ظلم سیاسی غیر استحکام اور کرپشن کا دور دورہ ہے۔ یہ ماحول وہاں کی زندگی پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے اور اس کو اپنی منزل یاد آرہی ہے۔ اس وقت کے سیاسی حالات بھی دجال کی آنے کی راہ ہموار کریں گے۔ بہت سے ملکوں کا سیاسی و ثقافتی نظام تباہ و برباد ہو جائے گا۔ مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں بہت زیادہ طاقت ہوگی اور غیر قانونی و غیر انسانی کاموں میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھیں گے۔ اس پر المیہ یہ کہ ان کو ماننے والے ان کو مذہبی رہنما کے طور پر مانیں گے ۔
پھر کچھ عرصے کے لیے دجال کے زیر قبضہ علاقوں میں لڑائی رک جائے گی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد لوگ اپنی آزادی کو یاد کرتے ہوئے دوبارہ بغاوت پر آمادہ ہو جائیں گے جس سے بہت زیادہ تباہی و بربادی ہوگی اور لوگ اپنے مقصد کی خاطر جان قربان کرنا شروع کردیں گے۔ وہ زمانہ انتہائی وحشت ناک اور سخت ہوگا ۔ دجال جمعرات کو اپنے لیے خاص دن کے طور پر لے گا اور اس کے اسلحہ سے بہت زیادہ کشت تو خون ہوگا ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں